السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على دخول الوضوء في الغسل وسقوط فرض المضمضة والاستنشاق باب: غسل میں وضو کے داخل ہونے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے فرض کے ساقط ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 845
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلُوا سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الرَّجُلِ يَغْسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ أَيَكْفِيهِ ذَلِكَ مِنَ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلْيَغْسِلْ قَدَمَيْهِ ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي نَسِيَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ فِي الْجَنَابَةِ، قَالَ: " لَا يُعِيدُ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو غسلِ جنابت کرتا ہے، کیا اس کو وضو کفایت کر جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں البتہ وہ اپنے قدم دھو لے۔
حسن بصری رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا بھول گیا، فرمایا: نماز دوبارہ نہیں لوٹائے گا۔