حدیث نمبر: 846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَنَادَى بِالصَّلَاةِ بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلَاةِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: " مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي الْجَنَابَةُ وَلَا مَاءَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَكَانَ آخِرَ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: " اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔۔۔ نماز کے لیے اذان کہی گئی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے پھرے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! کس نے تجھے منع کیا کہ تو قوم کے ساتھ نماز ادا کرتا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو مٹی کو لازم پکڑتا، بیشک وہ کفایت کر جاتی ہے“ اور پھر لمبی حدیث بیان کی۔۔۔ فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے اس کو پانی کا برتن دیا اور فرمایا: ”جا اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“