السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على دخول الوضوء في الغسل وسقوط فرض المضمضة والاستنشاق باب: غسل میں وضو کے داخل ہونے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے فرض کے ساقط ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 844
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " وَأَيُّ وُضُوءٍ أَتَمُّ مِنَ الْغُسْلِ إِذَا اجْتُنِبَ الْفَرْجُ ".حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کون سا وضو غسل سے زیادہ مکمل ہے؟ جب کہ عام (وضو میں) شرمگاہ دھونے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔