السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على دخول الوضوء في الغسل وسقوط فرض المضمضة والاستنشاق باب: غسل میں وضو کے داخل ہونے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے فرض کے ساقط ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 843
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشَدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ، قَالَ: " لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي - أَوْ قَالَ: - فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے سر کی مینڈھیوں کو سختی سے باندھتی ہوں، کیا میں غسلِ جنابت کے لیے ان کو کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تجھ کو تین چلو ڈالنا ہی کافی ہیں، پھر تو اس پر پانی بہا لے اور طہارت حاصل کر“ یا فرمایا: ”اس وقت تو پاک ہو جائے گی۔“