السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على دخول الوضوء في الغسل وسقوط فرض المضمضة والاستنشاق باب: غسل میں وضو کے داخل ہونے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے فرض کے ساقط ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 842
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَهْلَ الطَّائِفِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَمَا يُجْزِئُنَا مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل طائف نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے تو ہمیں جنابت کے غسل سے کیا کفایت کرے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔“