السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدليل على دخول الوضوء في الغسل وسقوط فرض المضمضة والاستنشاق باب: غسل میں وضو کے داخل ہونے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے فرض کے ساقط ہونے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُنَاسًا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ وَقَالُوا: إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَحْفِنَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ ". مُخَرَّجٌ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا اور عرض کیا کہ ہم ٹھنڈے علاقے میں رہتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالنا کافی ہے۔“