السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: جواز قضاء رمضان في تسعة أيام من ذي الحجة باب: ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں میں رمضان کی قضا کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 8396
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تَقْضِ رَمَضَانَ فِي ذِي الْحِجَّةِ وَلَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَظُنُّهُ مُنْفَرِدًا وَلَا تَحْتَجِمْ وَأَنْتَ صَائِمٌ " وَرُوِيَ أَيْضًا عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي كَرَاهِيَةِ الْقَضَاءِ فِي الْعَشْرِ وَهَذَا لِأَنَّهُ كَانَ يَرَى قَضَاءَهُ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ مُتَتَابِعًا فَإِذَا زَادَ مَا وَجَبَ عَلَيْهِ قَضَاؤُهُ عَلَى تِسْعَةِ أَيَّامٍ انْقَطَعَ تَتَابُعُهُ بِيَوْمِ النَّحْرِ وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ.حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ اور ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رمضان کی قضا عشرہ ذی الحجہ میں نہ دو، اور نہ ہی صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھو اور نہ ہی حالتِ روزہ میں سنگی لگواؤ۔
(اس عشرے میں قضا دینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ قضا کو متواتر جانتے تھے۔ سو جب قضائے وجوب نو سے زیادہ ہو جائے تو اس کا تواتر یوم النحر اور ایام تشریق کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔)