السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من رأى عليه القضاء باب: ان کا بیان جو اس پر قضا کو لازم سمجھتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ، فَبَدَرَتْنِي بِالْكَلَامِ وَكَانَتِ ابْنَةَ أَبِيهَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ وَأُهْدِيَ لَنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْضِيَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ ". هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ ثِقَاتُ الْحُفَّاظِ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنْهُ مُنْقَطِعًا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ وَبَكْرُ بْنُ وَائِلٍ وَغَيْرُهُمْ.ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے روزے کی حالت میں صبح کی، نفلی روزے کے ساتھ، تو ان کو کھانے کا ہدیہ دیا گیا تو انہوں نے اس کے ساتھ افطار کر لیا، تو ان کے پاس نبی کریم ﷺ داخل ہوئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بات کرنے میں مجھ سے پہل کی اور وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے نفلی روزوں کے ساتھ صبح کی۔ پھر ہمیں کھانے کا ہدیہ ملا تو ہم نے افطار کر لیا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے عوض دوسرے دن میں قضا دینا۔“
اس حدیث کو زہری کے ثقہ حفاظ شاگردوں نے ان سے منقطع سند کے ساتھ بیان کیا ہے: مالک بن انس، یونس بن یزید، معمر بن راشد، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ بن عمر، سفیان بن عیینہ، محمد بن ولید زبیدی، بکر بن وائل وغیرہ۔