السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا باب: اگر روزہ نفلی ہو تو اس کی قضا کے سلسلے میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8362
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَأَتَانِي هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ " ثُمَّ قَالَ لَهُ: " أَفْطِرْ وَصُمْ مَكَانَهُ يَوْمًا إِنْ شِئْتَ " وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَدْ أَخْرَجْنَاهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا تو میرے پاس آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آئے۔ جب کھانا رکھا گیا تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں روزے سے ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔“ پھر اسے فرمایا: ”افطار کر اور اس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اگر تو چاہے۔“