السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا باب: اگر روزہ نفلی ہو تو اس کی قضا کے سلسلے میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن داخل ہوئے، تو آپ ﷺ نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ ﷺ کا بچا ہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر رمضان کے روزوں کی قضا تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضا دے یا نہ دے۔“