حدیث نمبر: 8350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ " قَالَتْ: لَا. قَالَ: " فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی دائیں جانب، تو ایک بچی برتن میں پانی لائی اور آپ ﷺ کو پکڑا دیا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دے دیا، تو انہوں نے اس میں سے پیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے افطار کر لیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تو قضا دے رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں اگر نفل تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8350
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»