السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ جَعْدَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ وَكَانَ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ يُحَدِّثُهُ فَيَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنَا أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا جَعْدَةَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَنَاوَلَتْهُ شَرَابًا فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِجَعْدَةَ أَسَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَهْلُنَا وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ.شعبہ کہتے ہیں: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے بیٹوں میں سے ایک، جعدہ نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ آئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو پانی دیا تو آپ ﷺ نے پیا، پھر وہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا اور انہوں نے بھی پی لیا اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں تو روزے سے تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والا امین و مختار ہوتا ہے، چاہے تو رکھے، چاہے تو افطار کر لے۔“
شعبہ کہتے ہیں: میں نے جعدہ سے کہا: کیا تم نے یہ خود ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ہمارے گھر والوں نے اور ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو صالح نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔