السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: تخليل أصول الشعر بالماء وإيصاله إلى البشرة باب: پانی سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرنے اور اسے کھال تک پہنچانے کا بیان
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحْتَ كُلِّ شَعْرٍ جَنَابَةٌ، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ " تَفَرَّدَ بِهِ مَوْصُولًا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، بالوں کو دھوؤ اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔“
اس حدیث کو موصول بیان کرنے میں حارث بن وجیہ متفرد ہے اور اس کے متعلق محدثین نے کلام کیا ہے۔