السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: تخليل أصول الشعر بالماء وإيصاله إلى البشرة باب: پانی سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرنے اور اسے کھال تک پہنچانے کا بیان
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، سَنَةَ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا حَجَّاجٌ، وَعَفَّانُ، وَعُبَيْدُ اللهِ، وَاللَّفْظُ لِعَفَّانَ، قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ ". قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا: ”جس شخص نے بال برابر جنابت کی جگہ چھوڑ دی جس کو پانی نہ لگا تو اس کے ساتھ آگ میں ایسے ایسے کیا جائے گا۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی مول لے لی ہے۔ عبید اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے بالوں کو جڑ سے کاٹ دیتے تھے۔