السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: لا يصام يوم الفطر ولا يوم النحر ولا أيام منى فرضا ولا تطوعا باب: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ایامِ منیٰ میں نہ فرض روزہ رکھا جائے گا اور نہ نفلی۔
حدیث نمبر: 8252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِكَ لِلْغَدِ أَوْ بَعْدِ الْغَدِ مَنْ يوْمِ الْأَضْحَى فَقَدَّمَ إِلَيْهِ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: " أَفْطِرْ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا "، فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللهِ وَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ.حافظ ثناء اللہ
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا غلام بیان کرتا ہے کہ میں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ بات عید الاضحی کے بعد پہلے یا دوسرے دن کی ہے، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کے سامنے کھانا پیش کیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو ان سے عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ”افطار کرو، یہ ان ایام میں سے ہے جس میں رسول اللہ ﷺ ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے“، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہما نے افطار کر لیا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔