حدیث نمبر: 8253
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْوُضُوءُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ الْأَعْمَشُ مَرَّةً: وَالْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الْوُضُوءُ مِمَّا يَخْرُجُ وَلَيْسَ مِمَّا يَدْخُلُ، وَإِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ " وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ: " وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے سے وضو اور روزے دار کے پچھنے لگوانے کے بارے میں تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: بے شک وضو اس سے ہے جو چیز نکلتی ہے نہ کہ اس سے جو داخل ہوتی ہے اور اس سے ٹوٹتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے نہ کہ خارج ہوتی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8253
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور»