السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: لا يصام يوم الفطر ولا يوم النحر ولا أيام منى فرضا ولا تطوعا باب: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ایامِ منیٰ میں نہ فرض روزہ رکھا جائے گا اور نہ نفلی۔
حدیث نمبر: 8250
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حَرَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمَا ⦗٤٣٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حکیم بن ابی حرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نذر کے روزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک آدمی دن کا نام لے کر نذر مانتا ہے کہ فلاں دن نہیں آئے گا مگر میں روزے سے ہوں گا، تو وہ دن عید الاضحی کا ہوتا ہے یا عید الفطر کا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ﴿تمہارے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] کہ رسول اللہ ﷺ یوم الاضحی اور یوم الفطر کو روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔