السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: لا يصام يوم الفطر ولا يوم النحر ولا أيام منى فرضا ولا تطوعا باب: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ایامِ منیٰ میں نہ فرض روزہ رکھا جائے گا اور نہ نفلی۔
حدیث نمبر: 8249
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ان دو دن کے روزوں سے منع کیا، جو یوم الاضحی ہے، اس میں تم قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور جو یوم الفطر ہے، یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے۔“