السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8219
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَعَلَيْهِ نَذْرُ صِيَامِ شَهْرٍ آخَرَ، قَالَ: " يُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " كَذَا رَوَاهُ ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْهُ فِي الصِّيَامَيْنِ جَمِيعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان کے مہینے کے روزے ہوں اور دوسرے مہینے میں نذر کے روزے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔