السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8220
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَتْ، أَوْ رَجُلٍ، وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ، وَنَذْرُ شَهْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يُطْعَمُ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ، أَوْ يَصُومُ عَنْهُ وَلِيُّهُ لِنَذْرِهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس پر مہینہ بھر کے رمضان یا نذر کے روزے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا دیا جائے گا یا پھر اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔