❮
❯
حدیث نمبر: 8220
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَتْ، أَوْ رَجُلٍ، وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ، وَنَذْرُ شَهْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يُطْعَمُ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ، أَوْ يَصُومُ عَنْهُ وَلِيُّهُ لِنَذْرِهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ

میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس پر رمضان کے اور ایک مہینے کی نذر کے روزے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا دیا جائے گا یا پھر اس کا ولی اس کی نذر کی خاطر اس کی طرف سے روزہ رکھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8220
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»