السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8218
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَامِلٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمُ شَهْرٍ، قَالَ: " يُطْعَمُ عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے مہینے کے روزے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ان کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائے۔“