السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8217
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ وَلَمْ يَقْضِهِ، قَالَ: " يُطْعَمُ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ " هَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا رَفْعُهُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَالْآخَرُ قَوْلُهُ: نِصْفُ صَاعٍ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الصَّاعِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان کے وہ روزے ہیں جس کی قضا نہیں کر سکا: ”تو ہر دن کے عوض مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔“
یہ دو لحاظ سے غلط ہے؛ ایک یہ کہ اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا، جب کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ وہ آدھا صاع ہے، جب کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گندم کا ایک مد۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ سے ہے جس میں صاع کا تذکرہ نہیں۔