السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَيَّامًا وَهُوَ مَرِيضٌ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فَلْيُطْعِمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ أَفْطَرَهُ مِنْ تِلْكَ الْأَيَّامِ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ عَامَ قَابِلٍ قَبْلَ أَنْ يَصُومَهُ فَأَطَاقَ صَوْمَ الَّذِي أَدْرَكَ فَلْيُطْعِمْ عَمَّا مَضَى كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلْيَصُمِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس نے رمضان میں مرض کی وجہ سے کچھ دن افطار کیا، پھر وہ قضا سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اس کی جانب سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا دیا جائے، ان تمام دنوں کے عوض۔ اگر اسے آئندہ رمضان آئے اس کے روزے رکھنے سے پہلے اور وہ اس کے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو جو گزر چکے ہیں، ان کے عوض مسکین کو ایک مد گندم دے اور جو رمضان گزر رہا ہے اس کے روزے رکھے۔