السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 8215
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَنَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ أَوْ نَذْرٌ، يَقُولُ: " لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَكِنْ تَصَدَّقُوا عَنْهُ مِنْ مَالِهِ لِلصَّوْمِ، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان یا نذر وغیرہ کے روزے تھے تو وہ فرماتے: ”کوئی کسی کی طرف سے روزے نہ رکھے لیکن اس کے مال میں سے صدقہ دو، ہر دن کے روزے کے عوض ایک مسکین۔“