السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الهلال يرى في بلد، ولا يرى في آخر باب: چاند ایک شہر میں دیکھا جائے اور دوسرے میں نہ دیکھا جائے، اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمَرُوزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ⦗٤٢١⦘ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتِي، فَاسْتَهَلَّ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرَ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْهِلَالِ، قَالَ: " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ " قُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: " أَنْتَ رَأَيْتُهُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، وَرآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا، أَوْ صَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ "، فَقُلْتُ: أَوَ لَا نَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: " لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ أَوْ تَكْمُلُ الْعِدَّةُ، وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَهُ رُؤْيَتُهُ بِبَلَدٍ آخَرَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ حَتَّى تَكْمُلَ الْعِدَّةُ عَلَى رُؤْيَتِهِ، لِانْفِرَادِ كُرَيْبٍ بِهَذَا الْخَبَرِ فَلَمْ يَقْبَلْهُ.کریب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں شام میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ فرماتے ہیں: میں شام آیا، اپنی حاجت پوری کی کہ رمضان آگیا اور میں شام میں ہی تھا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے چاند کے بارے میں پوچھا کہ کیا تم نے چاند دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا، انہوں نے روزہ رکھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا، تو انہوں نے کہا: مگر ہم نے تو ہفتے کو دیکھا ہے، ہم تو ابھی روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں، میں نے کہا: کیا آپ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دیکھنا کافی نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔“
ہو سکتا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارادہ وہ ہو جو دوسرے قصے میں بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھنے تک مدت کو بڑھا دیا یا پھر تعداد کو مکمل کرنے کے لیے ان کے نزدیک دوسرے ملک کی گواہی ثابت نہیں دو کی گواہی کے ساتھ حتیٰ کہ تعداد مکمل ہو جائے دیکھنے سے بھی، اور اس خبر میں ایک ہے اسی لیے قبول نہیں کیا۔