السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: تأكيد الفطر في السفر إذا كان يريد لقاء العدو باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب دشمن سے مقابلے کا ارادہ ہو۔
حدیث نمبر: 8149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا سَأَلَكَ هَؤُلَاءِ، أَسْأَلُكَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ "، فَكَانَتْ رُخْصَةً، مِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُوا عَدُوَّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا "، فَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم روزے سے تھے، ہم منزل پر اترے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم دشمن کے قریب ہو چکے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا“ اور یہ رخصت تھی، تو ہم میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے روزہ رکھا اور بعضوں نے افطار کیا۔ پھر ہم دوسری منزل پر اترے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم دشمن پر صبح کرنے والے ہو اور افطار کرنا قوت کا باعث ہو گا، سو تم افطار کر لو۔“ یہ عزیمت تھی، سو ہم نے افطار کر لیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم نے ہمیں دیکھا کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔