السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: تأكيد الفطر في السفر إذا كان يريد لقاء العدو باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی تاکید کا بیان جب دشمن سے مقابلے کا ارادہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، فَأَنْبَأَنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ عَامَ الْفَتْحِ فِي لَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّى بَلَغْنَا الْكَدِيدَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَيْنِ، مِنْهُمُ الصَّائِمُ وَالْمُفْطِرُ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا الْمَنْزِلَ الَّذِي نَلْقَى الْعَدُوَّ فِيهِ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ: حَتَّى إِذَا بَلَغَ الظَّهْرَانَ آذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِينَ.سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے فتح والے سال میں کوچ کا حکم دیا، جبکہ رمضان کی دو راتیں گزر چکی تھیں، تو ہم روزے کی حالت میں نکلے حتیٰ کہ جب ہم کدید مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں افطار کا حکم دیا تو لوگ دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں «صَائِمٌ» ”روزہ دار“ بھی تھے اور «مُفْطِرٌ» ”بغیر روزے والے“ بھی تھے، حتیٰ کہ جب ہم اس مقام پر پہنچے جہاں ہم نے دشمن سے ملنا تھا تو آپ ﷺ نے افطار کا حکم دیا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ مقامِ مرظہران پہنچے تو آپ ﷺ نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کر لیا۔