السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُعَجِّلَ إِفْطَارَنَا، وَنُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ " هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ قَوْلِهَا: وَثَلَاثَةٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ، وَهُوَ أَصَحُّ مَا وَرَدَ فِيهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ..سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں اور یہ کہ ہم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یہ سیدنا ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی دوسری ضعیف سندوں سے مروی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا، اور اس بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس میں یہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔