السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8125
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُعَجِّلَ إِفْطَارَنَا، وَنُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ " هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ قَوْلِهَا: وَثَلَاثَةٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ، وَهُوَ أَصَحُّ مَا وَرَدَ فِيهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں اور یہ کہ ہم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا۔