السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ "، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَبَيْنَ السُّحُورِ؟ قَالَ: " قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعِ عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کرتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ میں نے کہا: اذان اور سحری میں کتنا وقفہ ہوتا؟ انہوں نے کہا: پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔