کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8118
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ: " وَلَمْ يُؤَخِّرُوا تَأْخِيرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ لوگ خیر میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔“
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے نبی کریم ﷺ سے نقل فرمایا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”اہلِ مشرق کی تاخیر کی طرح تم تاخیر نہ کرو۔“
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے نبی کریم ﷺ سے نقل فرمایا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”اہلِ مشرق کی تاخیر کی طرح تم تاخیر نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 8119
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُوَدَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ دین غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے، بے شک یہودی اور عیسائی تاخیر کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 8120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے محبوب بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔“
حدیث نمبر: 8121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى الزَّاهِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَيُؤَخِّرُ ⦗٤٠٠⦘ الْإِفْطَارَ، قَالَتْ: " أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ؟ " قُلْنَا: عَبْدُ اللهِ، قَالَتْ: " هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَخَالَفَهُمَا شُعْبَةُ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اور مسروق رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے، انہوں نے کہا: اے ام المومنین! اصحابِ محمد ﷺ میں سے دو آدمی ہیں، ایک ان میں سے نماز جلدی پڑھتا ہے اور روزہ بھی جلدی افطار کرتا ہے اور دوسرا نماز و افطار میں (تاخیر) کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: ”جلدی کون کرتا ہے؟“ انہوں نے کہا: عبداللہ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے“ اور دوسرے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 8122
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، أَوْ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ فِينَا رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُؤَخِرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ؟ " قُلْنَا: ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: " كَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَهَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعطیہ وادعی فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ہم نے کہا: ”اے ام المومنین! اصحابِ محمد ﷺ میں سے دو افراد ہیں، ایک ان میں سے افطار جلدی کرتا ہے مگر سحری میں تاخیر کرتا ہے، لیکن جو دوسرا ہے وہ افطار میں تاخیر کرتا ہے اور سحری میں جلدی کرتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ کون ہے جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتا ہے؟“ ہم نے کہا: ”وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ یوں ہی کیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 8123
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رات آ جائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔“
حدیث نمبر: 8124
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ "، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَبَيْنَ السُّحُورِ؟ قَالَ: " قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعِ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کرتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ میں نے کہا: اذان اور سحری میں کتنا وقفہ ہوتا؟ انہوں نے کہا: پچاس آیات پڑھنے کے برابر۔
حدیث نمبر: 8125
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا طَلْحَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُعَجِّلَ إِفْطَارَنَا، وَنُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ " هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِّيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ، فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ قَوْلِهَا: وَثَلَاثَةٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ، وَهُوَ أَصَحُّ مَا وَرَدَ فِيهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار میں جلدی کریں اور سحری میں تاخیر کریں اور یہ کہ ہم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھیں۔“
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا۔
یہ حدیث طلحہ بن عمرو مکی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور وہ ضعیف ہیں، ان میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے جس میں ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں: پھر ان کا تذکرہ کیا۔
حدیث نمبر: 8126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا، أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَ يَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ، ثُمَّ يُفْطِرَانِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْمَبْسُوطِ: كَأَنَّهُمَا يَرَيَانِ تَأْخِيرَ ذَلِكَ وَاسِعًا؛ لِأَنَّهُمَا يَعْمَدَانِ الْفَضْلَ لِتَرْكِهِ بَعْدَ أَنْ أُبِيحَ لَهُمَا، وَصَارَا مُفْطِرَيْنِ بِغَيْرِ أَكْلٍ وَشُرْبٍ؛ لِأَنَّ الصَّوْمَ لَا يَصْلُحُ فِي اللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، جب وہ دیکھتے کہ رات سیاہ ہو گئی ہے۔ پھر وہ نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے اور یہ رمضان میں ہوتا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 8127
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَلَ النَّاسِ إِفْطَارًا، وَأَبْطَأَهُمْ سُحُورًا ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ محمد ﷺ افطار کرنے میں سب سے جلدی کرنے والے تھے اور سحری میں سب سے زیادہ تاخیر کرنے والے تھے۔