السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُؤْكَلُ مِنْهَا وَهُوَ اللَّحْمُ فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَهُوَ حَلَالٌ ". قَالَ عَلِيٌّ: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ يَرْوِيهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا فَأَمَّا السِّنُّ وَالشَّعْرُ وَالْقَدُّ فَلَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ يَحْيَى: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ لَيْسَ بِشَيْءٍ. وَقَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى:.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کی کھال، دانت، ہڈی، بال اور اون حلال ہے۔
(ب) علی بن عمر (دارقطنی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صرف ابوبکر ہذلی ہی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے کہ وہ مردار کے گوشت کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اس کے دانت، بال اور چمڑے کے تسموں میں کوئی حرج نہیں۔
(د) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی قابلِ حجت نہیں ہے۔