السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ". فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي ⦗٣٧⦘ طَاهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالُوا: فَخَصَّ الْأَكْلَ بِالتَّحرِيمِ. وَقَدْ رَوَى أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةً لَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهَا ثِقَةٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردہ بکری دیکھی جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کو صدقہ میں دی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صرف (گوشت) کھانا حرام ہے۔“
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔