حدیث نمبر: 8088
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ "، وَقَالَ رَجُلٌ: قَبَضَ عَلَى سَاقِهَا، قَالَ أَيْضًا " اعْفُوا الصِّيَامَ ".
حافظ ثناء اللہ

عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، جب وہ بوسے تک رک جائے، تو آدمی نے کہا: اس کی پنڈلی کو پکڑا، تو انہوں نے کہا: پھر بھی روزے سے درگزر کرو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8088
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»