السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8088
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ "، وَقَالَ رَجُلٌ: قَبَضَ عَلَى سَاقِهَا، قَالَ أَيْضًا " اعْفُوا الصِّيَامَ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے دار کے بوسے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، جب وہ بوسے تک رک جائے، تو آدمی نے کہا: اس کی پنڈلی کو پکڑا، تو انہوں نے کہا: پھر بھی روزے سے درگزر کرو۔