السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8087
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَأَرْخَصَ فِيهَا لِلشَّيْخِ وَكَرِهَهَا لِلشَّابِّ.حافظ ثناء اللہ
عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روزے کی حالت میں عورت کے بوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بوڑھے کو اجازت دے دی اور نوجوان کے لیے اسے ناپسند کیا۔