السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: رواية من روى هذا الحديث مقيدة بوقوع وطئه في صوم رمضان وفيها دلالة على أن هذه القصة غير قصة المظاهر، فإن وطء المظاهر وقع ليلا في القمر باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام رکھتا ہے کہ اسے آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابھی آپ ﷺ کے پاس ہی تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کہا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان میرے اہل سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ مسکرا دیے اور آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور فرمایا: ”جا اپنے اہل کو کھلا دے۔“