حدیث نمبر: 8046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حدَّثَنِي الْأُوَيْسِيُّ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ فَارِعٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَيَاضَةَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، فَقَالَ " تَصَدَّقْ "، فَقَالَ: مَا نَجِدُ عَشَاءً لَيْلَةً، قَالَ: " فَعُدْ بِهِ عَلَى أَهْلِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: الزِّيَّادَاتُ الَّتِي فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ حِفْظِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمَنْ دُونَهُ لِتِلْكَ الْقِصَّةِ، وَقَوْلُهُ: فِيهِ عِشْرُونَ صَاعًا، بَلَاغٌ بَلَّغَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَعْضٍ مِنْ هَذَا، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: فَحُدِّثْتُ بَعْدُ أَنَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ كَانَتْ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، وَهُوَ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ پہاڑ کے سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا جو بنو رضاعہ میں سے تھا، کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا کہ رمضان کے مہینے میں بیوی پر واقع ہو گیا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر“، اس نے کہا: میں نہیں پاتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا“۔ اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے، پھر آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں بیس صاع تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا صدقہ کر“۔ اس نے کہا: ہمارے پاس آج رات کا کھانا نہیں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اپنے اہل پر لوٹا دے“۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں جو زیادہ بیانات ہیں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حافظے کی صحت پر دال ہیں۔ اس قصے کے علاوہ بھی انہوں نے کہا: کہ بیس صاع تھے۔ یہ ایک بات جو محمد بن جعفر تک پہنچی، محمد بن جعفر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے بیان کیا گیا کہ وہ صدقہ بیس صاع کھجور تھا جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پندرہ صاع زیادہ بیان کیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8046
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ البخاري»