السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الرجل يجد في ثوبه منيا ولا يذكر احتلاما باب: اس شخص کا بیان جو اپنے کپڑے پر منی پائے لیکن اسے احتلام یاد نہ ہو
حدیث نمبر: 802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرْفِ، فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ: " إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَكَ لَانَتِ الْعُرُوقُ "، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ مِنَ الِاحْتِلَامِ، وَأَعَادَ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر اپنی زمین جرف کی طرف گئے تو اپنے کپڑوں میں احتلام پایا، پھر کہا: جب ہمیں احتلام ہوتا ہے تو رگیں نرم ہوجاتی ہیں۔
پھر انہوں نے غسل کیا اور احتلام کو اپنے کپڑوں سے دھویا اور نماز دوبارہ لوٹائی۔