کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنے کپڑے پر منی پائے لیکن اسے احتلام یاد نہ ہو
حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى الْجُرْفِ فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ وَصَلَّى وَلَمْ " يَغْتَسِلْ، فَقَالَ: " وَاللهِ مَا أُرَانِي إِلَّا قَدِ احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّيْتُ، وَمَا اغْتَسَلْتُ، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ، وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ، وَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا ". لَفْظُ ابْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
زبید بن صلت سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف نکلا، انہوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہوا تھا، انہوں نے نماز پڑھی لیکن غسل نہیں کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے احتلام کا علم نہیں ہوا اور میں نے نماز پڑھ لی جب کہ میں نے غسل نہیں کیا تھا، پھر انہوں نے غسل کیا اور اس جگہ کو دھویا جو انہوں نے اپنے کپڑوں میں دیکھی تھی اور (اس جگہ) چھینٹے مارے جو انہوں نے نہیں دیکھا اور اذان دی اور اقامت کہی، سورج بلند ہونے کے بعد اسی جگہ نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 802
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرْفِ، فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ: " إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَكَ لَانَتِ الْعُرُوقُ "، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ مِنَ الِاحْتِلَامِ، وَأَعَادَ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر اپنی زمین جرف کی طرف گئے تو اپنے کپڑوں میں احتلام پایا، پھر کہا: جب ہمیں احتلام ہوتا ہے تو رگیں نرم ہوجاتی ہیں۔
پھر انہوں نے غسل کیا اور احتلام کو اپنے کپڑوں سے دھویا اور نماز دوبارہ لوٹائی۔
پھر انہوں نے غسل کیا اور احتلام کو اپنے کپڑوں سے دھویا اور نماز دوبارہ لوٹائی۔