السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أكل وهو يرى أن الفجر لم يطلع، ثم بان أنه كان قد طلع باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی، پھر ظاہر ہوا کہ وہ طلوع ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 8010
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: " إِنْ كَانَ شَهْرُ رَمَضَانَ صَامَهُ وَقَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ، فَقَدْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِهِ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ، وَعَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ يَقْضِي أَصَحُّ؛ لِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى وُجُوبِ الصَّوْمِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَعَ مَا رُوِّينَا فِي هَذَا الْبَابِ مِنَ الْأَثَرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور وہ سمجھا کہ رات ہے حالانکہ فجر طلوع ہو چکی ہو تو انہوں نے فرمایا: اگر رمضان کا مہینہ تھا تو وہ روزہ پورا کرے گا اور قضا بھی دے گا۔ اگر رمضان کے علاوہ کی بات ہے تو وہ اس کے آخر میں بھی کھائے جس نے شروع میں کھایا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کی سی بات بیان کی گئی ہے کہ اس کا قضا دینا زیادہ صحیح ہے اس اعتبار سے جو دلائل گزر چکے ہیں طلوع فجر کے وقت روزہ واجب ہونے کے۔