السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح جنبا في شهر رمضان باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ثُمَّ يَصُومُ " قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ، قَالَ: فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرٌ ذَلِكَ كُلَّهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: قَالَتَا: فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ: كَذَلِكَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ثُمَّ يَصُومُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے وعظ میں فرماتے تھے کہ جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ روزہ نہ رکھے۔ تو میں نے یہ بات عبدالرحمن سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، پھر عبدالرحمن اور میں سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے ان سے یہ بات پوچھی تو ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ، پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے۔ پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے انہیں تمام بات بتائی تو مروان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے تاکید کرتا ہوں کہ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف ضرور جا اور جو وہ کہتے ہیں اس کی تردید کر۔ وہ کہتے ہیں: پھر ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابوبکر تمام معاملے میں ہمارے ساتھ تھا تو عبدالرحمن نے یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، نبی کریم ﷺ سے نہیں سنی، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہا کرتے تھے اس سے رجوع کر لیا۔ میں نے عبدالملک سے کہا: کیا ان دونوں نے رمضان کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: اسی طرح، آپ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر روزہ رکھتے۔