کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
حدیث نمبر: 7989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَسْمَعُ: إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي "، تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا (اور میں سن رہی تھی) کہ میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میں نے روزہ بھی رکھنا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میں نے بھی روزہ رکھنا ہوتا ہے۔ میں غسل کرتا ہوں، پھر اس دن کا روزہ رکھتا ہوں“ تو اس شخص نے کہا: آپ ﷺ ہماری طرح تو نہیں، آپ کے تو پہلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں اور بعد والے بھی، تو رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم سے زیادہ جانتا ہوں کہ تقویٰ کیا ہے“۔
حدیث نمبر: 7990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ "، فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: " وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور وہ فتویٰ طلب کر رہا تھا اور میں دروازے کے پیچھے سے سن رہی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، تو کیا میں روزہ رکھوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بھی نماز آ لیتی ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں اور میں روزہ رکھتا ہوں۔“ تو اس نے کہا: آپ ﷺ ہماری طرح تو نہیں ہیں، آپ ﷺ کے تو اللہ نے پہلے گناہ معاف کر دیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں زیادہ جانتا ہوں کہ میں جس قدر متقی ہوں۔“
حدیث نمبر: 7991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِأَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ ⦗٣٦١⦘ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں جو نبی کریم ﷺ کی بیویاں ہیں کہ اگر آپ ﷺ جماع سے جنبی حالت میں صبح کرتے تو آپ ﷺ روزہ رکھتے۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
حدیث نمبر: 7992
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ فِي مَتْنِهِ: فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور اس کے متن میں اضافہ یہ کیا «فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ» ”کہ رمضان میں (ایسا ہوتا) پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔“
حدیث نمبر: 7993
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: ثنا، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا، أَيَصُومُ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لَا مِنْ حُلْمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مروان نے انہیں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھیں جو جنبی حالت میں صبح کرتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جنبی حالت میں صبح کرتے اور جنابت احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتی، پھر نہ تو آپ ﷺ روزہ چھوڑتے اور نہ ہی قضا دیتے۔
حدیث نمبر: 7994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو رمضان میں فجر آ لیتی اور آپ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی ہوتے، پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
حدیث نمبر: 7995
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ⦗٣٦٢⦘ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلَتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ؟ " فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا وَاللهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا؟ فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي بِالْبَابِ فَلَتَأْتِيَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلَتُخْبِرَنَّهُ بِذَلِكَ، فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ مُدْرَجًا فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے“ تو مروان نے کہا: اے عبدالرحمن! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو میرے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائے گا اور ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ پھر عبدالرحمن گیا اور میں اس کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آگئے تو عبدالرحمن نے سلام پیش کیا اور کہا: اے ام المؤمنین! ہم مروان کے پاس تھے اور تمام بات بیان کی گئی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایسے نہیں ہے جیسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے، اے عبدالرحمن! کیا تم اس سے بے رغبتی کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؟ تو عبدالرحمن نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یہ بات نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ ”رسول اللہ ﷺ صبح جنبی حالت میں کرتے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ، پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے“۔ پھر ہم نکلے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کہا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے کہا: میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو میری سواری پر سوار ہو کر میرے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گا۔ پھر عبدالرحمن سوار ہوا اور میں بھی سوار ہوا، ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر عبدالرحمن نے ان کے ساتھ کچھ دیر تک گفتگو کی۔ پھر یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں، مجھے تو بتانے والے نے بتایا ہے۔
حدیث نمبر: 7996
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ: مَنْ أَدْرَكَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ثُمَّ يَصُومُ " قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ، قَالَ: فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَكْرٍ حَاضِرٌ ذَلِكَ كُلَّهُ، قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا كَانَ يَقُولُ فِي ذَلِكَ، قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: قَالَتَا: فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ: كَذَلِكَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ ثُمَّ يَصُومُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ روزہ نہ رکھے۔ تو میں نے یہ بات عبدالرحمن سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا، پھر عبدالرحمن اور میں سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے ان سے یہ بات پوچھی تو ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ، پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے۔ پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے انہیں تمام بات بتائی تو مروان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات پر قائم ہوں۔ مگر تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف جا اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: پھر ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابوبکر تمام معاملے میں ہمارے ساتھ تھا تو عبدالرحمن نے یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے، نبی کریم ﷺ سے نہیں سنی، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہا کرتے تھے اس سے رجوع کر لیا۔ میں نے عبدالملک سے کہا: ان دونوں نے کہا: رمضان میں وہ صبح کرتے اس حال میں کہ بغیر احتلام کے جنبی ہوتے پھر روزہ رکھتے۔
حدیث نمبر: 7997
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: " أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے موت سے پہلے ہی اپنے اس قول سے رجوع کر لیا۔
حدیث نمبر: 7998
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: " رَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ قَوْلِهِ رُجُوعًا حَسَنًا، يَعْنِي فِي الْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ وَلَمْ يَغْتَسِلْ "، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّهُ قَالَ: أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ فِي هَذَا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مَحْمُولًا عَلَى النَّسْخِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْجِمَاعَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ مُحَرَّمًا عَلَى الصَّائِمِ فِي اللَّيْلِ بَعْدَ النَّوْمِ كَالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَلَمَّا أَبَاحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجِمَاعَ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ جَازَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ أَنْ يَصُومَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لِارْتِفَاعِ الْحَظْرِ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُفْتِي بِمَا سَمِعَهُ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى الْأَمْرِ الْأَوَّلِ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِالنَّسْخِ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَرَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ صَارَ إِلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن قیس مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنبی کے بارے میں بہت اچھا رجوع کیا کہ جب وہ اس حالت میں صبح کرتے اور غسل نہ کرتے۔
ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سلسلے میں سب سے اچھی بات وہ ہے جو میں نے سنی ہے کہ یہ نسخ پر محمول ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام میں سو جانے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع بھی حرام تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے جماع کو طلوعِ فجر تک جائز قرار دیا تو جنبی کے لیے یہ بھی جائز ہو گیا کہ وہ اس دن غسل کرنے سے پہلے روزہ رکھ لے، اس لیے کہ ممنوعیت ختم ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے جو انہوں نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا اور انہیں منسوخ ہونے کا علم نہ تھا، پھر جب انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سنی تو اس کی طرف رجوع کر لیا۔
ابوبکر بن منذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سلسلے میں سب سے اچھی بات وہ ہے جو میں نے سنی ہے کہ یہ نسخ پر محمول ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام میں سو جانے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع بھی حرام تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے جماع کو طلوعِ فجر تک جائز قرار دیا تو جنبی کے لیے یہ بھی جائز ہو گیا کہ وہ اس دن غسل کرنے سے پہلے روزہ رکھ لے، اس لیے کہ ممنوعیت ختم ہو گئی تھی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے جو انہوں نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا اور انہیں منسوخ ہونے کا علم نہ تھا، پھر جب انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سنی تو اس کی طرف رجوع کر لیا۔