❮
❯
حدیث نمبر: 7995
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ: سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ⦗٣٦٢⦘ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلَتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ؟ " فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا وَاللهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ "، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا؟ فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي بِالْبَابِ فَلَتَأْتِيَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلَتُخْبِرَنَّهُ بِذَلِكَ، فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ مُدْرَجًا فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوبکر بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد مروان بن حکم کے پاس تھے اور وہ مدینہ کے امیر تھے، ان سے ذکر کیا گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے“ تو مروان نے کہا: اے عبدالرحمن! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ضرور جائے گا اور ان دونوں سے اس بارے میں پوچھے گا۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ پھر عبدالرحمن گیا اور میں اس کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آگئے تو عبدالرحمن نے سلام پیش کیا اور کہا: اے ام المؤمنین! ہم مروان کے پاس تھے اور تمام بات بیان کی گئی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس نے صبح جنبی حالت میں کی تو وہ اس دن افطار کرے“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایسے نہیں ہے جیسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے، اے عبدالرحمن! کیا تم اس سے بے رغبتی کرتے ہو جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟ تو عبدالرحمن نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یہ بات نہیں ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ ”رسول اللہ ﷺ صبح جنبی حالت میں کرتے بغیر احتلام کے جماع کے ساتھ، پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے“۔ پھر ہم نکلے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کہا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، پھر ہم مروان کے پاس آئے اور عبدالرحمن نے انہیں بتایا جو ان دونوں نے کہا تھا تو مروان نے کہا: اے ابو محمد! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو دروازے پر موجود میری سواری پر سوار ہو کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جائے گا اور انہیں یہ بات بتائے گا۔ پھر عبدالرحمن سوار ہوا اور میں بھی سوار ہوا، ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر عبدالرحمن نے ان کے ساتھ کچھ دیر تک گفتگو کی۔ پھر یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا کوئی علم نہیں، مجھے تو بتانے والے نے بتایا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7995
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ هذالفظ مالك»