السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح جنبا في شهر رمضان باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ "، فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: " وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور وہ فتویٰ طلب کر رہا تھا اور میں دروازے کے پیچھے سے سن رہی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، تو کیا میں روزہ رکھوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بھی نماز آ لیتی ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں اور میں روزہ رکھتا ہوں۔“ تو اس نے کہا: آپ ﷺ ہماری طرح تو نہیں ہیں، آپ ﷺ کے تو اللہ نے پہلے اور بعد والے گناہ معاف کر دیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں زیادہ جانتا ہوں کہ میں جس قدر متقی ہوں۔“