السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح جنبا في شهر رمضان باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
حدیث نمبر: 7990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ "، فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: " وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور وہ فتویٰ طلب کر رہا تھا اور میں دروازے کے پیچھے سے سن رہی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، تو کیا میں روزہ رکھوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بھی نماز آ لیتی ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں اور میں روزہ رکھتا ہوں۔“ تو اس نے کہا: آپ ﷺ ہماری طرح تو نہیں ہیں، آپ ﷺ کے تو اللہ نے پہلے گناہ معاف کر دیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں زیادہ جانتا ہوں کہ میں جس قدر متقی ہوں۔“