السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من أصبح جنبا في شهر رمضان باب: اس شخص کا بیان جس نے ماہِ رمضان میں جنابت کی حالت میں صبح کی۔
حدیث نمبر: 7989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَسْمَعُ: إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ، فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " وَاللهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي "، تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا (اور میں سن رہی تھی) کہ میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میں نے روزہ بھی رکھنا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور میں نے بھی روزہ رکھنا ہوتا ہے۔ میں غسل کرتا ہوں، پھر اس دن کا روزہ رکھتا ہوں“ تو اس شخص نے کہا: آپ ﷺ ہماری طرح تو نہیں، آپ کے تو پہلے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں اور بعد والے بھی، تو رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم سے زیادہ جانتا ہوں کہ تقویٰ کیا ہے“۔