السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: النهي عن استقبال شهر رمضان بصوم يوم أو يومين، والنهي عن صوم يوم الشك باب: ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ کر ماہِ رمضان کا استقبال کرنے کی ممانعت، اور یومِ شک کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ إِذَا حَضَرَ رَمَضَانُ، ثُمَّ يَقُولُ: " هَذَا الشَّهْرُ الْمُبَارَكُ الَّذِي فَرَضَ اللهُ صِيَامَهُ وَلَمْ يَفْرِضْ قِيَامَهُ، لِيَحْذَرْ رَجُلٌ أَنْ يَقُولَ: أَصُومُ إِذَا صَامَ فُلَانٌ، أَوْ أُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ فُلَانٌ، أَلَا إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلَكِنْ مِنَ الْكَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ، أَلَا لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ، إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ "، قَالَ: كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ⦗٣٥٢⦘.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو وہ خطبہ بیان فرماتے، پھر کہتے: ”یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے کو اللہ نے فرض قرار دیا اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس بات سے بچے کہ اگر فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور جب فلاں افطار کرے گا تو میں افطار کروں گا۔ خبردار! روزہ کھانے پینے سے نہیں بلکہ جھوٹ، باطل اور لغو باتوں سے رکنے کا نام ہے۔ خبردار! اس مہینے سے تقدیم نہ کرو، جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر گنتی پوری کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ یہ بات نمازِ عصر یا نمازِ فجر کے بعد کہتے تھے۔