السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: النهي عن استقبال شهر رمضان بصوم يوم أو يومين، والنهي عن صوم يوم الشك باب: ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ کر ماہِ رمضان کا استقبال کرنے کی ممانعت، اور یومِ شک کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يُشَكُّ فِيهَا مِنْ رَمَضَانَ قَامَ حِينَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَهْرٌ كَتَبَ اللهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَلَمْ يَكْتُبْ عَلَيْكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ نَوَافِلِ الْخَيْرِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَنَمْ عَلَى فِرَاشِهِ، وَلَا يَقُلْ قَائِلٌ: إِنْ صَامَ فُلَانٌ صُمْتُ، وَإِنْ قَامَ فُلَانٌ قُمْتُ، فَمَنْ صَامَ أَوْ قَامَ فَلْيَجْعَلْ ذَلِكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَقِلُّوا اللَّغْوَ فِي بُيُوتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ، أَلَا لَا يَتَقَدَّمَنَّ الشَّهْرَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ لَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَغسِقَ اللَّيْلُ عَلَى الظِّرَابِ ".سیدنا عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب شک کی رات ہوتی تو مغرب کی نماز کے بعد کھڑے ہو جاتے اور کہتے: یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا۔ جو تم میں سے قیام کی طاقت رکھتا ہے تو وہ قیام کرے، بیشک یہ وہ نفلی نیکی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو کوئی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنے بستر پر سو جائے اور کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور اگر وہ قیام کرے گا تو میں قیام کروں گا۔ سو جس کسی نے روزہ رکھا یا قیام کیا تو اس کو اللہ کے لیے کرے۔ اللہ کے گھروں میں لغو بات کم کرو اور چاہیے کہ تم جان لو کہ جب تک کوئی نماز کے انتظار میں ہوتا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ خبردار! کوئی تم میں سے مہینے کی تقدیم نہ کرے۔ ”اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن شمار کرو۔“ پھر تم افطار نہ کرو حتیٰ کہ رات ٹیلوں کے پیچھے چھپ جائے۔