کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ کر ماہِ رمضان کا استقبال کرنے کی ممانعت، اور یومِ شک کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7942
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَيُّوبَ الْبَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا يَحْيَى بنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمًا يَصُومُهُ رَجُلٌ، فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الصَّوْمَ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی رمضان المبارک سے تقدیم نہ کرے ایک یا دو روزوں کے ساتھ مگر یہ کہ وہ روزہ ہو جسے آدمی پہلے سے رکھ رہا ہو تو وہ اس دن کا روزہ رکھ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَصُومُهُ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ، وَرَوَاهُ أَيُّوبُ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَمَعْمَرٌ، وَشَيْبَانُ وَحُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، وَهَمَّامٌ، وَأَبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامٍ وَمُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے ایک یا دو دن کے ساتھ تقدیم نہ کرو مگر کہ وہ شخص ہو جو پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7944
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِالْيَوْمِ وَالْيَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا "، وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَغَيْرِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس مہینے (رمضان) کی ایک یا دو دن کے ساتھ تقدیم نہ کرو مگر یہ کہ وہ ایسے روزے دار کو موافق آ جائے جو تم میں سے اسے پہلے رکھتا تھا، دیکھ کر روزہ رکھو اور اس کو دیکھ کر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس دن مکمل کرنے کے بعد افطار کرو۔“
حدیث نمبر: 7945
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ⦗٣٤٩⦘ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ الرَّازِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا هَذَا الشَّهْرَ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس مہینے سے تقدیم نہ کرو بلکہ اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور نظر آنے پر افطار کرو، اگر تم پر بادل وغیرہ چھا جائیں تو پھر تیس کی تعداد پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 7946
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَأَعْجَبُ مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَصُومُونَ قَبْلَ رَمَضَانَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں پر تعجب کرتا ہوں جو رمضان سے پہلے روزے رکھتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب دیکھو تو افطار کرلو، اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر تیس کی تعداد پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 7947
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمٍ هُوَ ابْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ أَمِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا، فَقُلْتُ: إِنْ كَانَ مِنْ رَمَضَانَ لَمْ يَسْبِقْنِي، وَإِنْ كَانَ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ تَطَوُّعًا، فَدَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا، فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: أَحْلِفُ بِاللهِ لَتُفْطِرَنَّهُ، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ، قَالَ: أَحْلِفُ بِاللهِ لَتُفْطِرَنَّهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ لَا يَسْتَثْنِي أَفْطَرْتُ فَغَدَوْتُ بِبَعْضِ الشَّيْءِ، وَأَنَا شَبْعَانٌ، ثُمَّ قُلْتُ: هَاتِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَتْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ، أَوْ غَيَابَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، لَا تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو، اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل وغیرہ حائل ہوجائیں تو گنتی پوری کرو اور تم نہ اس مہینے کا استقبال کرو (یعنی شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو)۔“
حدیث نمبر: 7948
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، وَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَمَامَةٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ أَفْطِرُوا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، وَشُعْبَةُ، وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَقُولُوا: ثُمَّ أَفْطِرُوا ⦗٣٥٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ مُخْتَصَرًا، فَجَعَلَ إِكْمَالَ الْعِدَّةِ لِشَعْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس مہینے کا ایک یا دو دن کے روزے رکھ کر استقبال نہ کرو سوائے اس کے کہ کسی اور وجہ سے کوئی روزہ رکھ رہا ہو اور تم روزہ نہ رکھو جب تک تم اسے دیکھ نہ لو، پھر روزہ رکھتے رہو جب تک اسے دیکھ نہ لو اور اگر کوئی بادل وغیرہ حائل ہو جائے تو پھر تیس دن پورے کرو، پھر افطار کرو۔ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انہیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو، مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انہیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو، مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7949
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُومُوا رَمَضَانَ لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَمَامَةٌ أَوْ ضَبَابَةٌ فَأَكْمِلُوا شَهْرَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ " وَكَأَنَّهُ ذَكَرَ الْحُكْمَ فِي الطَّرَفَيْنِ جَمِيعًا، فَرَوَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَحَدَ طَرَفَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے رکھو اس (چاند) کے نظر آنے پر اور افطار کرو اس کے نظر آنے پر۔ اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو اور شعبان میں ایک دن کا روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 7950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ "، وَصَلَهُ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ بِذِكْرِ حُذَيْفَةَ فِيهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ حُجَّةٌ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم مہینے کی تقدیم نہ کرو حتیٰ کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی مکمل نہ کر لو، پھر تم روزہ رکھو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو یا گنتی مکمل نہ کر لو۔“
حدیث نمبر: 7951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ هَذَا مِنْ شَعْبَانَ، وَبَعْضُهُمْ هَذَا مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن طلق رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سنا جو نبی کریم ﷺ سے شک والے دن کے بارے میں سوال کر رہا تھا کہ بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ شعبان ہے اور بعض کہتے ہیں رمضان ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔“
حدیث نمبر: 7952
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأَتَى بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ: " مَنْ صَامَ يَوْمَ الشَّكِّ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ مَتْنَهُ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ.
حافظ ثناء اللہ
صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ، تو قوم کے کچھ لوگ علیحدہ ہو گئے، انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، تو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس نے شک کے دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔“
حدیث نمبر: 7953
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبَزَّازُ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصِّيَامِ قَبْلَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ، وَالْأَضْحَى، وَالْفِطْرِ، وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ " أَبُو عَبَّادٍ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”رمضان سے ایک دن پہلے روزہ رکھنے، عید الاضحیٰ، عید الفطر اور ایام تشریق (یوم النحر کے تین دن بعد) کے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔“
حدیث نمبر: 7954
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يُشَكُّ فِيهَا مِنْ رَمَضَانَ قَامَ حِينَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَهْرٌ كَتَبَ اللهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَلَمْ يَكْتُبْ عَلَيْكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ نَوَافِلِ الْخَيْرِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَنَمْ عَلَى فِرَاشِهِ، وَلَا يَقُلْ قَائِلٌ: إِنْ صَامَ فُلَانٌ صُمْتُ، وَإِنْ قَامَ فُلَانٌ قُمْتُ، فَمَنْ صَامَ أَوْ قَامَ فَلْيَجْعَلْ ذَلِكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَقِلُّوا اللَّغْوَ فِي بُيُوتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ، أَلَا لَا يَتَقَدَّمَنَّ الشَّهْرَ مِنْكُمْ أَحَدٌ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ لَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَغسِقَ اللَّيْلُ عَلَى الظِّرَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب شک کی رات ہوتی تو مغرب کی نماز کے بعد کھڑے ہو جاتے اور کہتے: یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا۔ جو تم میں سے قیام کی طاقت رکھتا ہے تو وہ قیام کرے، بیشک یہ وہ نفلی نیکی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو کوئی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنے بستر پر سو جائے اور کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور اگر وہ قیام کرے گا تو میں قیام کروں گا۔ سو جس کسی نے روزہ رکھا یا قیام کیا تو اس کو اللہ کے لیے کرے۔ اللہ کے گھروں میں لغو بات کم کرو اور چاہیے کہ تم جان لو کہ جب تک کوئی نماز کے انتظار میں ہوتا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ خبردار! کوئی تم میں سے مہینے کی تقدیم نہ کرے۔ ”اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن شمار کرو۔“ پھر تم افطار نہ کرو حتیٰ کہ رات ٹیلوں کے پیچھے چھپ جائے۔
حدیث نمبر: 7955
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ إِذَا حَضَرَ رَمَضَانُ، ثُمَّ يَقُولُ: " هَذَا الشَّهْرُ الْمُبَارَكُ الَّذِي فَرَضَ اللهُ صِيَامَهُ وَلَمْ يَفْرِضْ قِيَامَهُ، لِيَحْذَرْ رَجُلٌ أَنْ يَقُولَ: أَصُومُ إِذَا صَامَ فُلَانٌ، أَوْ أُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ فُلَانٌ، أَلَا إِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَلَكِنْ مِنَ الْكَذِبِ وَالْبَاطِلِ وَاللَّغْوِ، أَلَا لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ، إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ "، قَالَ: كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ⦗٣٥٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو وہ خطبہ بیان فرماتے، پھر کہتے: ”یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے روزے کو اللہ نے فرض قرار دیا اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس بات سے بچے کہ اگر فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور جب فلاں افطار کرے گا تو میں افطار کروں گا۔ خبردار! روزہ کھانے پینے سے نہیں بلکہ جھوٹ، باطل اور لغو باتوں سے رکنے کا نام ہے۔ خبردار! اس مہینے سے تقدیم نہ کرو، جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو پھر گنتی پوری کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ یہ بات نمازِ عصر یا نمازِ فجر کے بعد کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 7956
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ الْحُسَيْنُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسے ہی کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّوفِيُّ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ عُمَرَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَنْهَيَانِ عَنْ صَوْمِ الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیشک عمر اور علی رضی اللہ عنہما شک کے دن میں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7958
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَاجَةَ الْقَزْوِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حَكِيمٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " لَوْ صُمْتُ السَّنَةَ كُلَّهَا لَأَفْطَرْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَأْمُرُ رَجُلًا يُفْطِرُ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن حکیم حضرمی فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ اگر میں سال بھر روزہ رکھوں تو شک والے دن رمضان المبارک میں ضرور روزہ افطار کروں۔
امام ثوری رحمہ اللہ نے عبدالعزیز سے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسی دن میں روزہ افطار کرے جس میں شک ہو۔
امام ثوری رحمہ اللہ نے عبدالعزیز سے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اسی دن میں روزہ افطار کرے جس میں شک ہو۔
حدیث نمبر: 7959
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا أَبُو الضُّرَيْسِ عُقْبَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " لَأَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ أَقْضِيَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَزِيدَ فِيهِ يَوْمًا لَيْسَ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عباس نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں رمضان کے ایک دن کا روزہ نہ رکھوں پھر اس کی قضا دوں یہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس میں ایک دن کا اضافہ کروں جو اس میں سے نہیں۔
حدیث نمبر: 7960
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ فِنْجَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَاجَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، قَالَ: " اخْتَلَفُوا فِي يَوْمٍ لَا يُدْرَى أَمِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، فَأَتَيْنَا أَنَسًا فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا يَتَغَدَّى " وَرُوِّينَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُ: كَانَ يَنْهَى عَنْ صَوْمِ الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ. وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " افْصِلُوا " يَعْنِي بَيْنَ صَوْمِ رَمَضَانَ وَشَعْبَانَ بِفَطْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ ہمام سے نقل فرماتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے اس دن میں اختلاف کیا جس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ رمضان ہے یا شعبان؟ تو ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے انہیں اس حالت میں پایا کہ وہ بیٹھے صبح کا کھانا کھا رہے تھے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ شک کے روزے سے منع کیا کرتے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ شعبان اور رمضان میں افطار کے ساتھ فاصلہ کرو۔