السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: النهي عن استقبال شهر رمضان بصوم يوم أو يومين، والنهي عن صوم يوم الشك باب: ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ کر ماہِ رمضان کا استقبال کرنے کی ممانعت، اور یومِ شک کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7949
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صُومُوا رَمَضَانَ لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَمَامَةٌ أَوْ ضَبَابَةٌ فَأَكْمِلُوا شَهْرَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ " وَكَأَنَّهُ ذَكَرَ الْحُكْمَ فِي الطَّرَفَيْنِ جَمِيعًا، فَرَوَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَحَدَ طَرَفَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے رکھو اس (چاند) کے نظر آنے پر اور افطار کرو اس کے نظر آنے پر۔ اگر تمہارے اور اس کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کرو اور شعبان میں ایک دن کا روزہ رکھ کر رمضان کا استقبال نہ کرو۔“