السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: النهي عن استقبال شهر رمضان بصوم يوم أو يومين، والنهي عن صوم يوم الشك باب: ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھ کر ماہِ رمضان کا استقبال کرنے کی ممانعت، اور یومِ شک کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصِيَامِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، وَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَمَامَةٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ أَفْطِرُوا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، وَشُعْبَةُ، وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَقُولُوا: ثُمَّ أَفْطِرُوا ⦗٣٥٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ مُخْتَصَرًا، فَجَعَلَ إِكْمَالَ الْعِدَّةِ لِشَعْبَانَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس مہینے کا ایک یا دو دن کے روزے رکھ کر استقبال نہ کرو سوائے اس کے کہ کسی اور وجہ سے کوئی روزہ رکھ رہا ہو اور تم روزہ نہ رکھو جب تک تم اسے دیکھ نہ لو، پھر روزہ رکھتے رہو جب تک اسے دیکھ نہ لو اور اگر کوئی بادل وغیرہ حائل ہو جائے تو پھر تیس دن پورے کرو، پھر افطار کرو۔ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انہیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو، مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔