السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من دخل في صوم التطوع بعد الزوال باب: اس شخص کا بیان جو زوال کے بعد نفلی روزے کی نیت کر کے اس میں داخل ہوا۔
حدیث نمبر: 7921
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قال: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: " أَحَدُكُمْ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَأْكُلْ أَوْ يَشْرَبْ " وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: هُمْ، يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ لَا يَرَوْنَ هَذَا، يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَا يَكُونُ صَائِمًا حَتَّى يَنْوِيَ الصَّوْمَ قَبْلَ زَوَالِ الشَّمْسِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ: الْمُتَطَوِّعُ بِالصَّوْمِ مَتَى شَاءَ نَوَى الصِّيَامَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کچھ کھاتا یا پیتا نہیں تو اسے اختیار ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ (یعنی عراقی) ایسا خیال نہیں کرتے بلکہ وہ فرماتے ہیں: جب تک وہ زوال شمس سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا تو اس کا روزہ نہیں ہوگا، لیکن ہم کہتے ہیں کہ نفلی روزے میں جب چاہے نیت کرے۔